Saturday, 9 April 2022

زندگی مجھ کو مری نظروں میں شرمندہ نہ کر

 زندگی مجھ کو مِری نظروں میں شرمندہ نہ کر

مر چکا ہے جو بہت پہلے اسے زندہ نہ کر

حال کا یہ دکھ تِرے ماضی کی تجھ کو دین ہے

آج تک جو کچھ کیا تُو نے وہ آئندہ نہ کر

تُو بھی اس طوفان میں اک ریت کی دیوار ہے

اپنی ہستی بھول کر ہر ایک کی نندہ نہ کر

سو گنا ہوتے ہوئے بھی جس نے بازی ہار دی

ایسی بزدل بھیڑ کا مجھ کو نمائندہ نہ کر

جسم کیا شے ہے کہ میری روح تک جل جائے گی

آگ میں اپنی جلا کر مجھ کو تابندہ نہ کر


عقیل شاداب

No comments:

Post a Comment