Saturday, 9 April 2022

کس نے دیکھی ہے بہاروں میں خزاں میرے سوا

 کس نے دیکھی ہے بہاروں میں خزاں میرے سوا

کون کر سکتا ہے یہ قصہ بیاں میرے سوا

کس کو معلوم ہے صحرا کی ہواؤں کا مزاج

ریت پر کون بنائے گا مکاں میرے سوا

سب فقیرانِ شبِ ہجر وطن چھوڑ گئے

کون اب دے گا بیاباں میں اذاں میرے سوا

تھپکیاں کون سرِ دشت مجھے دیتا ہے

کیا کوئی اور بھی رہتا ہے یہاں میرے سوا

ایک اک زخم مِرے اشک سے یہ کہتے رہے

اب کوئی اور نہ ہو نقش عیاں میرے سوا

اس نئے شہر کی اس بھیڑ میں اے حضرتِ عشق

جانتا کون ہے اب تم کو میاں میرے سوا


مظفر ابدالی

No comments:

Post a Comment