بے بسی
ہم بوڑھے لوگ بہت بے بس
کوئی اسی ستر ساٹھ برس
جینے کا تماشہ کرتے ہوئے
سانسوں کو بدن میں بھرتے ہوئے
کوئی ساتھ نہیں کوئی پاس نہیں
چہروں پہ برابر ماس نہیں
گھبرائے سے
اک سائے سے
دنیا کو برتنے کے سب
حق بسرائے سے
ممنو ع ہے سب ناجائز ہے
بارش کا کوئی مدھم لہجہ
پھولوں سے کہیں اڑتی خوشبو
بستر پہ پڑا فلمی پرچہ
کاجل کی نظر کا
اسنیٰ بدر
No comments:
Post a Comment