Saturday, 9 April 2022

‎ہم بوڑھے لوگ بہت بے بس

 بے بسی


‎ہم بوڑھے لوگ بہت بے بس

‎کوئی اسی ستر ساٹھ برس

‎جینے کا تماشہ کرتے ہوئے

‎سانسوں کو بدن میں بھرتے ہوئے

‎کوئی ساتھ نہیں کوئی پاس نہیں

‎چہروں پہ برابر ماس نہیں

‎گھبرائے سے

‎اک سائے سے

‎دنیا کو برتنے کے سب 

‎حق بسرائے سے

‎ممنو ع ہے سب ناجائز ہے

‎بارش کا کوئی مدھم لہجہ

‎پھولوں سے کہیں اڑتی خوشبو

‎بستر پہ پڑا فلمی پرچہ

‎کاجل کی نظر کا


اسنیٰ بدر

No comments:

Post a Comment