میرے خوابوں میں رہا جو شخص میرے روبرو
تیرے جیسا ہو بہو ہے تیرے جیسا ہو بہو
ہیں کہیں خوشیاں کہیں رنج و الم کی راگنی
دھوپ چھاؤں کا کوئی منظر ہے میرے چار سو
سوکھ جاتے ہیں شجر جب آس اور امید کے
لہلہاتی ہے دلوں میں کوئی فصلِ آرزو
کیسے رہ سکتا ہے تُو خوش تُو نے سوچا ہے کبھی
کر کے اک درویش کی چپ آرزوؤں کا لہو
چار سُو پھیلی ہوئی ہے جب سیاہی رات کی
میں درو دیوار سے کرنے لگی ہوں گفتگو
آئینہ بھی کس طرح صورت مِری پہچانتا
مدتوں کے بعد تھی میں آئینے کے روبرو
وقت نے کیسے بدل ڈالے ہیں تیرے خدوخال
کیوں یقیں آتا نہیں تجھ کو وہی فرحت ہے تو
فرزانہ فرحت
No comments:
Post a Comment