Sunday, 10 April 2022

بھاگی ہوئی لڑکیوں کے گھر

 بھاگی ہوئی لڑکیوں کے گھر 


جن کا گھر چھوٹ گیا

گھر نے جنہیں چھوڑ دیا

وہ جنہوں نے کیا انکار

روش پر نہ چلیں

ڈھونڈ لیتے ہیں انھیں فرش کی تہ سے یہ لوگ

اور پھر سے انھیں کرتے ہیں زمیں دوز کہیں

ہر دفعہ پیار محبت نہیں ہوتا لوگو

بھاگ جانے کی وجہ اور بھی ہو سکتی ہے

کوئی جھگڑا کہ تشدد کوئی دھمکی کہ سلوک

اور ہر بار اسی طرح کے فرسودہ شکوک

خیر جو بچ گئیں حالات کے آئینے سے

خود کشی کرنے سے یا جان لیے جانے سے

خود کو محفوظ کئے رہتی ہیں دنیا میں کہیں

ان کے چھوڑے ہوئے گھر

ایک گھٹن سے مسدود

مٹ گئے ان کے نشاں ڈھے چکے ان سب کے وجود

گھر کی دیواریں یہ اک راز چھپائے دل میں

خود سے لڑنے کے سبب

اپنی ہی نفرت کی شکار

سر جھکائے ہوئے اک عمر سے خاموش بہ لب

گھر کے مضبوط شجر

کر کے فراموش انھیں

نرم دل ہو کے بھی چٹان کی صورت پیہم

اپنے پندار سے بس

آنکھ ملانے کے لیے

سبز رہتے ہیں فقط سب کو دکھانے کے لیے

پس دیوار پڑوسی کے وہ تیر و نشتر

سامنا ہونے پہ جو یاد دلا دیتے ہیں

کبھی آنکھوں کے اشارے سے دکھا دیتے ہیں

شرم ساری سے الجھتا ہوا حسرت کا سفر

لڑکیاں بھاگ گئیں گھر سے

کوئی جانتا ہے؟

عمر کتنی ہی گزر جائے

ندامت کے بہ فیض

مندمل ہوتے نہیں زخم

دلوں میں ان کے

داغ رسوائی کے اور

دشت محبت کے فریب

وہ جو دکھ درد سہے

جن پہ تسلی نہ ملی

کوئی بھی ساتھ نہیں تھا جو نظر آئے نشیب

یاد کرتی ہیں وہ اس خالی جگہ کو اپنی

اپنے آنگن میں کسی قبر کی صورت کی طرح

رنج و غم دل میں سنبھالے ہوئے

مٹی جیسی

گھر کی دہلیز پہ ٹوٹی ہوئی مورت کی طرح


اسنیٰ بدر

No comments:

Post a Comment