بھاگی ہوئی لڑکیوں کے گھر
جن کا گھر چھوٹ گیا
گھر نے جنہیں چھوڑ دیا
وہ جنہوں نے کیا انکار
روش پر نہ چلیں
ڈھونڈ لیتے ہیں انھیں فرش کی تہ سے یہ لوگ
اور پھر سے انھیں کرتے ہیں زمیں دوز کہیں
ہر دفعہ پیار محبت نہیں ہوتا لوگو
بھاگ جانے کی وجہ اور بھی ہو سکتی ہے
کوئی جھگڑا کہ تشدد کوئی دھمکی کہ سلوک
اور ہر بار اسی طرح کے فرسودہ شکوک
خیر جو بچ گئیں حالات کے آئینے سے
خود کشی کرنے سے یا جان لیے جانے سے
خود کو محفوظ کئے رہتی ہیں دنیا میں کہیں
ان کے چھوڑے ہوئے گھر
ایک گھٹن سے مسدود
مٹ گئے ان کے نشاں ڈھے چکے ان سب کے وجود
گھر کی دیواریں یہ اک راز چھپائے دل میں
خود سے لڑنے کے سبب
اپنی ہی نفرت کی شکار
سر جھکائے ہوئے اک عمر سے خاموش بہ لب
گھر کے مضبوط شجر
کر کے فراموش انھیں
نرم دل ہو کے بھی چٹان کی صورت پیہم
اپنے پندار سے بس
آنکھ ملانے کے لیے
سبز رہتے ہیں فقط سب کو دکھانے کے لیے
پس دیوار پڑوسی کے وہ تیر و نشتر
سامنا ہونے پہ جو یاد دلا دیتے ہیں
کبھی آنکھوں کے اشارے سے دکھا دیتے ہیں
شرم ساری سے الجھتا ہوا حسرت کا سفر
لڑکیاں بھاگ گئیں گھر سے
کوئی جانتا ہے؟
عمر کتنی ہی گزر جائے
ندامت کے بہ فیض
مندمل ہوتے نہیں زخم
دلوں میں ان کے
داغ رسوائی کے اور
دشت محبت کے فریب
وہ جو دکھ درد سہے
جن پہ تسلی نہ ملی
کوئی بھی ساتھ نہیں تھا جو نظر آئے نشیب
یاد کرتی ہیں وہ اس خالی جگہ کو اپنی
اپنے آنگن میں کسی قبر کی صورت کی طرح
رنج و غم دل میں سنبھالے ہوئے
مٹی جیسی
گھر کی دہلیز پہ ٹوٹی ہوئی مورت کی طرح
اسنیٰ بدر
No comments:
Post a Comment