ذرا کچھ عاشقی کا مان رہ جاتا تو اچھا تھا
یہ افسانہ بلا عنوان رہ جاتا تو اچھا تھا
جتانے سے کسی احسان کی وقعت نہیں رہتی
اگر ہم پر تِرا احسان رہ جاتا تو اچھا تھا
صبح بھی ڈھل چکی تھی اور اسے جانے کی عجلت تھی
وہ اک دو پل مِرا مہمان رہ جاتا تو اچھا تھا
نہ آتے سامنے تم یوں مِری گستاخ نظروں کے
مِرے ہمدم، مرا ایمان رہ جاتا تو اچھا تھا
تِرے ترکِ تعلق نے بجھا ڈالا ہمیں ہمدم
طبیعت میں ذرا ہیجان رہ جاتا تو اچھا تھا
اثاثہ چند یادوں کا بچا لائے تھے وحشت میں
مگر یہ آخری سامان رہ جاتا تو اچھا تھا
ہر اک انداز سے تُو نے ہمیں پامال کر ڈالا
تِرے دل میں کوئی ارمان رہ جاتا تو اچھا تھا
فیصل ودود
No comments:
Post a Comment