Friday, 24 December 2021

یہ ہم جو روز نئے خواب سے تراشتے ہیں

 یہ ہم جو روز نئے خواب سے تراشتے ہیں

سبھی سراب خود اپنے لیے تراشتے ہیں

اسے جفا ہو مبارک، ہمیں وفا سے غرض

چلو، وفا کے نئے سلسلے تراشتے ہیں

چمن کا قرض ہے ہم پر، چمن ہمارا ہے

سو شاخ شاخ بڑے شوق سے تراشتے ہیں

سفر کڑا ہے، اگر حوصلہ ہے چلنے کا

تو ساتھ آؤ کہ ہم قافلے تراشتے ہیں

غزل ہو کوئی کہ جس کو زمانہ یاد رکھے

ردیف ڈھونڈنے ہیں، قافیے تراشتے ہیں

کہیں تو بحرِ جفا کا کنارہ آئے گا

وفا کی ناؤ اسی آس پہ تراشتے ہیں

جنہیں نہ کوئی سلیقہ تھا بات کرنے کا

وہ لوگ آج بڑے فلسفے تراشتے ہیں

ورق کہ عشق کا سادہ ہے ایک مدت سے

تو آؤ کوئی نئے حاشیے تراشتے ہیں

اسے بھلانے کی اک بے اثر سی کوشش ہے

کہ روز روز نئے مشغلے تراشتے ہیں

خدا نے ایسی ہی فطرت ہمیں نوازی ہے

خود اپنی ذات کے سب زاویے تراشتے ہیں

ہمیں خدا کی خدائی سے کیا غرض فیصل

ہم آپ اپنے لیے بت کدے تراشتے ہیں


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment