دھنک
دھنک اتنی دیر تک نہیں رہتی
جتنی دیر تک
اس کی دید کی یاد
تنہا جگنو
وہ بھی ننھی سی جان
بھلا کیا اجالا کرے گی
ہاں مگر
خود سراپا روشنی ہے
بہت سارے جگنو مل کر بھی
دور تک راستہ نہیں دکھا سکتے
لیکن تاریکی کا غرور توڑ دیتے ہیں
آؤ
جگنو سطروں والی
دھنک سی نظمیں ڈھونڈیں
کوثر جمال
No comments:
Post a Comment