جو تجھے بھول گیا تُو بھی اسے یاد نہ رکھ
بہتے پانی پہ تمناؤں کی بنیاد نہ رکھ
چند لمحے مجھے سُکھ کے بھی عنایت کر دے
عمر ساری تو مِرے حال کو برباد نہ رکھ
یہ تِری چپ نہ تِرے درد کا درماں ہو گی
کل جو آئے تھے بڑے شوق سے مہماں بن کر
آج کہتے ہیں کہ اس گھر کو تُو آباد نہ رکھ
تیرے احساس سے کہتی ہے یہ غزنی کی غزل
ہے مِرا حق تو مِری جان مِری داد نہ رکھ
محمود غزنی
No comments:
Post a Comment