نہ پوچھ کب تیری چاہت کے پیرہن پہنے
فراز عرش تھے روحوں نے جب بدن پہنے
کسی کسی نے تو خوشیاں بھی مفت میں پائیں
کسی نے غم کے لبادے بھی قیمتاً پہنے
اسے ذرا بھی میری موت کا ملال نہیں
مِری حیات کے لمحے کسی کی راہوں میں
کھڑے ہیں آج بھی پتھر کے پیرہن پہنے
اگر پڑے جو ضرورت تو ایک خواہش ہے
مِرے لہو کی شعاعیں مِرا وطن پہنے
محمود غزنی
No comments:
Post a Comment