ہماری موت پہ وہ سوگوار تھوڑی ہے
وہ ہے تو یار، مگر اتنا یار تھوڑی ہے
اسے بھی چُوم لیا کر کبھی محبت سے
ہمارے نام پہ گرد و غبار تھوڑی ہے
بس ایک دو ہیں کسی دن چلے ہی جائیں گے
غموں کی دوستو! لمبی قطار تھوڑی ہے
بتوں کو دیکھتی رہتی ہے آتے جاتے ہوئے
ہماری آنکھ عبادت گزار تھوڑی ہے
بہت سے لوگ ہیں ظالم مِرے قبیلے کے
گناہ گار، فقط خاکسار تھوڑی ہے
مِرے جو کوئی تو پہنچا کرو جنازے پر
حضور! مرتا کوئی بار بار تھوڑی ہے
دعا بھی اور ہی تُربت پہ مانگ آئے ہیں
جہاں کھڑے تھے وہ میرا مزار تھوڑی ہے
مِرے جنازے پہ جو بن سنور کے آیا ہے
اسے کہو کہ یہ جشنِ بہار تھوڑی ہے
نہیں وہ آیا جسے سب سے پہلے آنا تھا
یہ میری موت کوئی شاندار تھوڑی ہے
اسے یہاں سے اتارا، وہاں لگا آئے
یہ زندگی ہے کوئی اشتہار تھوڑی ہے
وہ ملنا چاہے تو غزنی سے مل بھی سکتا ہے
یہی کہیں ہے سمندر کے پار تھوڑی ہے
محمود غزنی
No comments:
Post a Comment