چمن اجاڑ کے قبریں سجانے والے لوگ
یہ بھوکے ننگوں کی برسی منانے والے لوگ
یہ اپنی پستی کا در اصل کرتے ہیں اعلان
مِرے بزرگوں کے قصے سنانے والے لوگ
سلیم پر بھی کبھی کاش یہ اٹھاتے ہاتھ
انار کلیوں پر انگلی اٹھانے والے لوگ
ہے جبری شادی بھی بیٹی کو زِندہ دفنانا
سمجھتے کیوں نہیں مرضی چلانے والے لوگ
یہ ذہنی طور پہ ہندو ہیں منہ سے کچھ بھی کہیں
خدا کے نام پہ لاشیں جلانے والے لوگ
زمانے والو! سہارہ سخن وروں کا بنو
یہی ہیں سوچوں کا قبضہ چھڑانے والے لوگ
وہ مجنوں مر کے بھی تاریخ کا حوالہ ہے
کہاں ہیں قیس پہ پتھر اٹھانے والے لوگ
شہزاد قیس
No comments:
Post a Comment