Tuesday, 8 March 2022

قبضہ کیا ہو تخت پہ جب ہیر پھیر سے

 قبضہ کیا ہو تخت پہ جب ہیر پھیر سے

گیدڑ کو زیب دیتا نہیں الجھے شیر سے

کرتا ہے جنگ بھوک سے بھوکے بدن کے ساتھ

کھاتا نہیں فقیر غلاظت کے ڈھیر سے

ویسے تو میں شکست کا عادی نہیں، مگر

ہارا ہوں شوق سے میں تجھ ایسے دلیر سے

کتوں کے اس گروہ کی اتنی کہاں مجال

رزقِ سخن کی روٹی اٹھائیں چنگیر سے

کڑوی نصیحتوں کے کسیلے سیال کا

میں جانتا ہوں ذائقہ کھلتا ہے دیر سے

ورنہ ہوا طواف نہ یوں کرتی رات بھر

خوشبو کا خاص ربط ہے اُجلی سویر سے

ہندہ مزاج لوگوں کو ارشاد کیا خبر

لگتی ہے کیسے آگ کلیجے میں شعر سے


ارشاد نیازی

No comments:

Post a Comment