قبضہ کیا ہو تخت پہ جب ہیر پھیر سے
گیدڑ کو زیب دیتا نہیں الجھے شیر سے
کرتا ہے جنگ بھوک سے بھوکے بدن کے ساتھ
کھاتا نہیں فقیر غلاظت کے ڈھیر سے
ویسے تو میں شکست کا عادی نہیں، مگر
ہارا ہوں شوق سے میں تجھ ایسے دلیر سے
کتوں کے اس گروہ کی اتنی کہاں مجال
رزقِ سخن کی روٹی اٹھائیں چنگیر سے
کڑوی نصیحتوں کے کسیلے سیال کا
میں جانتا ہوں ذائقہ کھلتا ہے دیر سے
ورنہ ہوا طواف نہ یوں کرتی رات بھر
خوشبو کا خاص ربط ہے اُجلی سویر سے
ہندہ مزاج لوگوں کو ارشاد کیا خبر
لگتی ہے کیسے آگ کلیجے میں شعر سے
ارشاد نیازی
No comments:
Post a Comment