کیا کریں بخت کے پھینکے ہوئے ان تیروں کو
خواب تو دیکھیں ترستے رہیں تعبیروں کو
جیسے اب اور کوئی کام نہیں اپنے لیے
رات دن دیکھتے رہنا تِری تصویروں کو
سب یہیں چھوڑ کے جانا ہے مقدر میں تو پھر
کیا کریں ورثے میں آئی ہوئی جاگیروں کو
کیا مسافت ہے کوئی شخص ٹھہرتا ہی نہیں
منزلیں کیا نظر آ جاتی ہیں رہگیروں کو
یہ اذیت ہی سدا ساتھ نبھاتی رہی ہے
کس لیے توڑ دیں دکھ درد کی زنجیروں کو
احمد امتیاز
No comments:
Post a Comment