Tuesday, 8 March 2022

کیا کریں بخت کے پھینکے ہوئے ان تیروں کو

 کیا کریں بخت کے پھینکے ہوئے ان تیروں کو

خواب تو دیکھیں ترستے رہیں تعبیروں کو

جیسے اب اور کوئی کام نہیں اپنے لیے

رات دن دیکھتے رہنا تِری تصویروں کو

سب یہیں چھوڑ کے جانا ہے مقدر میں تو پھر

کیا کریں ورثے میں آئی ہوئی جاگیروں کو

کیا مسافت ہے کوئی شخص ٹھہرتا ہی نہیں

منزلیں کیا نظر آ جاتی ہیں رہگیروں کو

یہ اذیت ہی سدا ساتھ نبھاتی رہی ہے

کس لیے توڑ دیں دکھ درد کی زنجیروں کو


احمد امتیاز

No comments:

Post a Comment