دشمن میں اور دوست میں پہچان ہو گئی
اے زندگی! تُو اب مجھے آسان ہو گئی
اس کی نگاہ میں جو نظر عکس آ گیا
میں آئینے کے سامنے حیران ہو گئی
کچھ دیر کو ٹہر کے چلی رُت بہار کی
اک پل کو جھانکتی خوشی مہمان ہوگئی
صدیوں کے بعد وہ نظر آیا جو راہ میں
اک کرب کی صدا تھی کہ مُسکان ہو گئی
تجھ سے وفا کا ربط ہی باقی نہ جب رہا
بستی بسی ہوئی تھی کہ ویران ہو گئی
پوچھے جو کوئی آپ سے میرا پتا اگر
کہنا کہ خواب تھی جو پریشان ہو گئی
شائستہ مفتی
No comments:
Post a Comment