چاہتوں میں بہت خسارے ہیں
ہم نے رو رو کے دن گزارے ہیں
غم نہیں آپ کی جدائی کا
اور بھی مسئلے ہمارے ہیں
زِیست ناپید تیری گلیوں میں
موت کے اہتمام سارے ہیں
تُو نہ اس سانحے پہ اشک بہا
ہم تو اپنی خوشی سے ہارے ہیں
خاک بھی اپنی دسترس میں نہیں
چاند تارے تو چاند تارے ہیں
یاریاں، یاریاں رہی کب ہیں
یار تو آپ بھی ہمارے ہیں
اپنے خط میرے پاس رہنے دے
یہ مِرے آخری سہارے ہیں
پچھلے دو چار سال مت پوچھو
ہم نے کس کرب میں گُزارے ہیں
عمر گزری ہے ان کی قربت میں
اب تو طوفان بھی ہمارے ہیں
بے وفائی نہیں وہ کر سکتا
اور غزنی میں عیب سارے ہیں
محمود غزنی
No comments:
Post a Comment