Friday, 7 May 2021

محبت عشق کی باتیں کتابوں میں ہی رہنے دو

 محبت، عشق کی باتیں کتابوں میں ہی رہنے دو

وصالِ یار کے قصے حجابوں میں ہی رہنے دو

وجودِ مرمریں لے کر نہ کانٹوں کے قریب آؤ

گل و گلزار میں رکھو گلابوں میں ہی رہنے دو

وہ میرا ہو نہیں سکتا میں جس کا خواب بھی دیکھوں

اگر یہ ہی حقیقت ہے تو خوابوں میں ہی رہنے دو

مجھے خوشیاں نہیں بھاتیں مِری تسکین کی خاطر

حصارِ درد و رنج رکھو عذابوں میں ہی رہنے دو

مجھے پا کر تمہاری سب اُمیدوں کا قتل ہو گا

مجھے تیمور مت ڈھونڈو سرابوں میں ہی رہنے دو


تیمور ذوالفقار

No comments:

Post a Comment