تیرے لیے میں موردِ الزام ہی سہی
بدنام کہہ رہے ہو تو بدنام ہی سہی
انکار ہو بھلے چلو اظہار تو کریں
قصہ تمام بات یہ انجام ہی سہی
تُو ساقیا عدو ہے اگر میں بھی رِند ہوں
دے دشمنی میں زہر بھرا جام ہی سہی
قاصد کے ہاتھ میرے لیے کچھ روانہ کر
ہو چاہے میری موت کا پیغام ہی سہی
یہ حوصلہ ہے رختِ سفر آج تک مِرا
وہ ساتھ تو چلا مِرے دو گام ہی سہی
صد شکر امتحان سے تیرے گزر گئے
شرمندہ اپنی حسرتِ ناکام ہی سہی
دیکھی ہے رات کس نے اے اختر شراب لا
آ، آج بادہ نوشی سرِ شام ہی سہی
حسنین اختر
No comments:
Post a Comment