Sunday, 9 July 2023

اس خرابے میں بھی خوش بنیاد رکھتا ہے مجھے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اِس خرابے میں بھی خوش بنیاد رکھتا ہے مجھے

اک غلامی کا شرف آزاد رکھتا ہے مجھے

رشتۂ الحمد ہے میرے اور اس کے درمیاں

شکر کے لمحوں میں کوئی یاد رکھتا ہے مجھے

ذکر ہے جس کا اسی کی مہرِ خاتمؐ ہے بہت

کیا ہوا جو یوں کوئی بیداد رکھتا ہے مجھے

بولتا ہوں تو صدا آتی ہے اس کی، مرحبا

وہ سرِ کُوئے سخن آباد رکھتا ہے مجھے

تاکہ کچھ اپنی بھی باتیں ہوں ہمارے درمیاں

مجلسِ شب میں وہ سب کے بعد رکھتا ہے مجھے

میرا یک اک لفظ اصلاً اس کی ہی تائید ہے

کوئی ہے جو فارغ اَز اضداد رکھتا ہے مجھے

اس کے دم سے اڑتا پھرتا ہوں افق سے تا افق

شانۂ شب خود پہ اختر لاد رکھتا ہے مجھے


اختر عثمان

No comments:

Post a Comment