عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سارے جہاں کا ایک ہی پروردگار ہے
بندے پہ جس کا رحم و کرم بے شمار ہے
رہتے ہیں وہ ہموم زمانہ سے بے نیاز
جن کے دلوں میں ذکر و ثنا کا خمار ہے
بارش بھی اس کا صدقہ خزائیں اسی سے ہیں
اس کے طفیل کون و مکاں میں بہار ہے
صحرا کی وسعتیں بھی اسی کی عطا سے ہیں
سرسبز اس کے فضل سے ہر برگ و بار ہے
ہر ایک شے میں پنہاں اسی کی تجلیاں
جلوہ اسی کا چاروں طرف آشکار ہے
شامِ الم کو صبحِ تفرُّح جو بخش دے
ذکرِ جمیل اسی کا تو وجہِ قرار ہے
افکارِ خامِ خستہ مشاہد کو ہر گھڑی
لاریب اس کے لطف سے حاصل نکھار ہے
مشاہد رضوی
No comments:
Post a Comment