Saturday, 8 July 2023

ظلم کی دھوپ دیواروں پر اتر آئی ہے

 مظلوم 


ظلم کی دھوپ دیواروں پر اتر آئی ہے 

اجنبیت کی برف پگھلنے کو ہے

اب مجھے تمہارے 

اور اپنے درد ایک سے لگتے ہیں 

محبت کی چھاؤں نہیں

تو ظلم کی دھوپ ہی سہی 

اب ہم سب ایک آسمان تلے 

ظالم کے لیے ہاتھ ملا سکتے ہیں


ثمینہ رشید

No comments:

Post a Comment