Saturday, 8 July 2023

ہم کہاں ہر کسی کو کہتے ہیں

 ہم کہاں ہر کسی کو کہتے ہیں

زندگی بس تجھی کو کہتے ہیں

اپنی غزلوں میں چاند، گُل، خُوشبو

جانِ من! آپ ہی کو کہتے ہیں

پاس تُو ہے تو اعتبار آیا

عید لازم خُوشی کو کہتے ہیں

رُوٹھ جانا،۔ کبھی منا لینا

پیار شاید اسی کو کہتے ہیں

تم سے تم تک اُڑان سوچوں کی

اور کیا شاعری کو کہتے ہیں


بابر شکیل ہاشمی

No comments:

Post a Comment