بات کا انتظار رہتا ہے
دل مِرا بے قرار رہتا ہے
عشق میں پیار میں محبت میں
دل پہ کب اختیار رہتا ہے
چین ملتا ہے دیکھ کر لیکن
پھر کئی دن بخار رہتا ہے
عمر بھر ہم تِرے رہے ورنہ
کون تا دم نثار رہتا ہے
جان تجھ پر لٹانے کو ہر دم
کوئی ہے جو تیار رہتا ہے
خبیب کنجاہی
No comments:
Post a Comment