Sunday, 4 April 2021

بجھ گیا دیپ بھی جلتا جلتا

 بجھ گیا دیپ بھی جلتا جلتا

اس قدر خوف تھا لمحہ لمحہ

میں ‌تِرے شہر سے یوں لوٹ آیا

درد بکھرے ملے چہرہ چہرہ

دور ہوتی گئی منزل مجھ سے

اور میں تھک گیا چلتا چلتا

میں اگر سائے طلب کرنے لگوں

دُھوپ بُچھ جائے گی رستہ رستہ

وقت کی دھول سے یادوں کے سبھی

نقش مٹ جائیں گے رفتہ رفتہ

خود پہ تھا زعم جسے حد درجے

ہو گیا ٹُوٹ کے ریزہ ریزہ

اس کی چاہت بھی تھی‌پہلی پہلی

پیار میرا بھی وہ تھا پہلا پہلا

پھول کھِلنے لگے میرے اطراف

ہنس پڑا تھا کوئی روتا روتا


مرتضیٰ اشعر

No comments:

Post a Comment