Sunday, 4 April 2021

اک ستارے کو کہکشاں کر دیں

 اِک ستارے کو کہکشاں کر دیں

یعنی سورج کو آسمان کر دیں

ایک ہاتھوں کا دل بنا کر ہم

اُس کو وعدوں کا پاسباں کر دیں

آؤ اب ایک ساتھ چل کر ہم

خار زاروں کو گُلستاں کر دیں

خواب تھکنے لگے ہیں آنکھوں میں

ان کی تعبیر کو عیاں کر دیں

وحشتِ قرب راس آئے گی

خواہشِ وصل کو عیاں کر دیں

آؤ مشترکہ خواہشیں باندھیں

اس پہ پھر دل کو رازداں کر دیں

اب کے سوچا ہے زندگی اپنی

نام تیرے ہی جانِ جاں کر دیں


فضہ بتول

No comments:

Post a Comment