Sunday, 4 April 2021

ہر سوال کا اپنے خود جواب ہو جائے

ہر سوال کا اپنے خود جواب ہو جائے

ذرے کی تمنا ہے آفتاب ہو جائے

تُو کبھی جو بھولے سے بے نقاب ہو جائے

منتقل حقیقت میں اپنا خواب ہو جائے

عشق کے پرستارو کچھ کمی تو ہے ورنہ

بوالہوس محبت میں کامیاب ہو جائے

ہم نفس خدا حافظ غنچہ و عنادل کا

باغباں کی نیت ہی جب خراب ہو جائے

میکدے میں توبہ کا کس کو ہوش رہتا ہے

اور ہر نظر تیری جب شراب ہو جائے


افسر آذری

No comments:

Post a Comment