تيرا انتظار بہت ہوا
اظہارِ شرمسار بہت ہوا
وادئ يادِ يار ميں ہى چلو
سفرِ کوچۂ يار بہت ہوا
خزاں ميں ڈھلنا سيکھیے
اميدِ صبحِ بہار بہت ہوا
وه کہيں موجود ہى نہيں
بس کر دلِ بيمار! بہت ہوا
کوئى اور بيوپار کيجيیے
ماتمِ دلدار بہت ہوا
آؤ اپنوں سے زخم کھائيں
بھروسۂ اغيار بہت ہوا
درد ميں ہنسا کرو فاطميہ
تماشائے آہ و زار بہت ہوا
حمزه فاطميہ
No comments:
Post a Comment