دل کے قیدی ہیں ضمانت بھی نہیں ہو سکتی
اب رہائی کسی صورت بھی نہیں ہو سکتی
ہم وہ وحشی ہیں سدھائے بھی نہیں جا سکتے
نیچ ایسے کہ ملامت بھی نہیں ہو سکتی
یہ بھروسہ کسی شیشے کی طرح ہوتا ہے
ٹوٹ جائے تو مرمت بھی نہیں ہو سکتی
اشک پاروں کو نمائش میں نہیں رکھ سکتا
خواب ریزوں کی تجارت بھی نہیں ہو سکتی
اب مِرا دل ہی بغاوت پہ اتر آیا ہے
اب تِرے غم کی حفاظت بھی نہیں ہو سکتی
جس نے خود اپنے خلاف آپ گواہی دی ہو
ایسے مجرم کی وکالت بھی نہیں ہو سکتی
مجھ کو بس ایک نظر دیکھنا ہوتا ہے تجھے
تجھ سے اتنی سی عنائت بھی نہیں ہو سکتی
زخم ایسا ہے دکھایا بھی نہیں جا سکتا
درد ایسا کہ وضاحت بھی نہیں ہو سکتی
عمر بھر کی یہ جدائی میں سہوں گا کیسے
یار تھوڑی سی رعائت بھی نہیں ہو سکتی؟
بارِ اقرار اُٹھایا نہیں جاتا ارشد
اور انکار کی جرأت بھی نہیں ہو سکتی
ارشد عزیز
No comments:
Post a Comment