Sunday, 4 April 2021

دل کے قیدی ہیں ضمانت بھی نہیں ہو سکتی

 دل کے قیدی ہیں ضمانت بھی نہیں ہو سکتی

اب رہائی کسی صورت بھی نہیں ہو سکتی

ہم وہ وحشی ہیں سدھائے بھی نہیں جا سکتے

نیچ ایسے کہ ملامت بھی نہیں ہو سکتی

یہ بھروسہ کسی شیشے کی طرح ہوتا ہے

ٹوٹ جائے تو مرمت بھی نہیں ہو سکتی

اشک پاروں کو نمائش میں نہیں رکھ سکتا

خواب ریزوں کی تجارت بھی نہیں ہو سکتی

اب مِرا دل ہی بغاوت پہ اتر آیا ہے

اب تِرے غم کی حفاظت بھی نہیں ہو سکتی

جس نے خود اپنے خلاف آپ گواہی دی ہو

ایسے مجرم کی وکالت بھی نہیں ہو سکتی

مجھ کو بس ایک نظر دیکھنا ہوتا ہے تجھے

تجھ سے اتنی سی عنائت بھی نہیں ہو سکتی

زخم ایسا ہے دکھایا بھی نہیں جا سکتا

درد ایسا کہ وضاحت بھی نہیں ہو سکتی

عمر بھر کی یہ جدائی میں سہوں گا کیسے

یار تھوڑی سی رعائت بھی نہیں ہو سکتی؟

بارِ اقرار اُٹھایا نہیں جاتا ارشد

اور انکار کی جرأت بھی نہیں ہو سکتی


ارشد عزیز

No comments:

Post a Comment