Sunday, 4 April 2021

رخسار سے گیسوؤں کا بل نکالے

 رخسار سے گیسوؤں کا بل نکالے

اسے کہو مِرے مسئلے کا حل نکالے

میرا آج خوش آئند ہو سکتا ہے

گر مِرے ذہن سے وہ اپنا کل نکالے

اسےکہنا کوئی منتظر بیٹھا ہے تِرا

مصروفیتِ زندگی سے دو پل نکالے

یوں نہیں لگے گی کسی سِرے بات

اب کوئی دیدہ ور شاخِ گل نکالے

اس کے دام میں نہیں آؤں گا اب

جتنا بھی آنکھوں سے کاجل نکالے

ریزہ ریزہ مجھے منظور نہیں وسیم

وہ حلقۂ دل سے مجھے مکمل نکالے


وسیم ارشد

No comments:

Post a Comment