رخسار سے گیسوؤں کا بل نکالے
اسے کہو مِرے مسئلے کا حل نکالے
میرا آج خوش آئند ہو سکتا ہے
گر مِرے ذہن سے وہ اپنا کل نکالے
اسےکہنا کوئی منتظر بیٹھا ہے تِرا
مصروفیتِ زندگی سے دو پل نکالے
یوں نہیں لگے گی کسی سِرے بات
اب کوئی دیدہ ور شاخِ گل نکالے
اس کے دام میں نہیں آؤں گا اب
جتنا بھی آنکھوں سے کاجل نکالے
ریزہ ریزہ مجھے منظور نہیں وسیم
وہ حلقۂ دل سے مجھے مکمل نکالے
وسیم ارشد
No comments:
Post a Comment