Sunday, 21 November 2021

سن لیا چشم تر کی نمی کے سبب

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سن لیا چشمِ تر کی نمی کے سبب

ہو گیا سب عطا اس غنی کے سبب

آرزو ہے کسے مال و زر کی یہاں

سب میسر ہے عشقِ نبیؐ کے سبب

مل رہا ہے مجھے تو طلب سے سوا

کچھ بھی حاجت نہیں ہے سخی کے سبب

رحمتیں ہیں تِری رحمتوں کے طفیل

روشنی ہے تِری روشنی کے سبب

مجھ کو بھی اذن ہو حاضری کا حضور

آرزوؤں کی خاطر، سعی کے سبب

خود بخود آ رہے ہیں مضامینِ نعت

آپؐ سے میری وابستگی کے سبب

اپنی بخشش کا امکاں قوی ہے مجھے

مرتضیٰ مدحتِ سیدی کے سبب


مرتضیٰ اشعر

No comments:

Post a Comment