Sunday, 21 November 2021

چومیں گے لب دل سے طیبہ کی زمیں جا کر

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


چومیں گے لبِ دل سے طیبہ کی زمیں جا کر

آئے گا قرار اب تو اس دل کو وہیں جا کر

وہ ارض کہ جو رشکِ فردوسِ بریں ٹھہری

دیکھیں گے زہے قسمت ہم بھی وہ زمیں جا کر

آنکھیں ہیں کہ شرمندہ، دل ہے کہ بڑا نادم

کس کس کو سنبھالوں گا آقاﷺ کے قریں جا کر

قرآنِ مبیں اکثر سنتے تھے سناتے تھے

دربارِ شہِ دیںﷺ میں جبریلِ امیں جا کر

غیروں کی سمجھ میں یہ آیا ہے نہ آئے گا

اکِ رات میں ہو آئے وہ عرشِ بریں جا کر

اللہ نے چاہا تو ہم بھی وہاں جائیں گے

بڑھ جاتا ہے جس در پر ایمان و یقیں جا کر

مٹی کا بدن راغب مٹ جائے تو اچھا ہے

سرکارِ دو عالمﷺ کی گلیوں میں کہیں جا کر


افتخار راغب​

No comments:

Post a Comment