Sunday, 21 November 2021

‎دل کا آئینہ ان کا صاف کر کے دیکھتے ہیں

 ‎دل کا آئینہ ان کا صاف کر کے دیکھتے ہیں

‎”یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں“

‎ہٹا کے ہاتھ ہوا کا عدو کی محفل سے

‎دل کی دہلیز پہ اب پاؤں دھر کے دیکھتے ہیں

‎دل میں تو اترے نہیں تھے وہ جو اپنے ہیں

‎چلو اب غیر کے دل میں اتر کے دیکھتے ہیں

‎پھنسی ہوں گردشِ دوراں میں اس طرح سے میں

‎کٹھن یہ راستے ہم اس سفر کے دیکھتے ہیں

‎دکھ کی تنہائی میں اکثر یہ شام گزری ہیں

‎لٹا کے جان اس پہ اپنی مر کے دیکھتے ہیں

‎دشتِ وحشت نے کیا ہے مِرا دل ایسے چاک

‎اس رنج و غم کو ہم دل سے گزر کے دیکھتے ہیں

‎اداس ہے یہ میرا دل کئی زمانے سے

‎ہم آ کے دل میں تمہارے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

‎دل کو بھانے لگے ہیں مِرے اب وہ فرزانہ

‎وہ سامنے ہیں مِرے جی بھر کے دیکھتے ہیں


فرزانہ غوری

No comments:

Post a Comment