دل کا آئینہ ان کا صاف کر کے دیکھتے ہیں
”یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں“
ہٹا کے ہاتھ ہوا کا عدو کی محفل سے
دل کی دہلیز پہ اب پاؤں دھر کے دیکھتے ہیں
دل میں تو اترے نہیں تھے وہ جو اپنے ہیں
چلو اب غیر کے دل میں اتر کے دیکھتے ہیں
پھنسی ہوں گردشِ دوراں میں اس طرح سے میں
کٹھن یہ راستے ہم اس سفر کے دیکھتے ہیں
دکھ کی تنہائی میں اکثر یہ شام گزری ہیں
لٹا کے جان اس پہ اپنی مر کے دیکھتے ہیں
دشتِ وحشت نے کیا ہے مِرا دل ایسے چاک
اس رنج و غم کو ہم دل سے گزر کے دیکھتے ہیں
اداس ہے یہ میرا دل کئی زمانے سے
ہم آ کے دل میں تمہارے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
دل کو بھانے لگے ہیں مِرے اب وہ فرزانہ
وہ سامنے ہیں مِرے جی بھر کے دیکھتے ہیں
فرزانہ غوری
No comments:
Post a Comment