میرے آنسو میری تقدیر سجا دیں نہ کہیں
دعائیں میری تجھے مجھ سے ملا دیں نہ کہیں
رو بھی سکتا نہیں کھل کر تیری محبت میں
میرے آنسو تمہارا نام دکھا دیں نہ کہیں
میری توبہ جو محبت کروں میں دوبارہ
تمہارے طور ہی مجھ کو وہ دغا دیں نہ کہیں
محبت تھی نہیں اس کو تبھی تو ڈرتا ہوں
لوگ الزام محبت کا لگا دیں نہ کہیں
میرا قصۂ محبت ہے بہت شہرہ جہاں
یہ قصہ بچے میرے مجھ کو سنا دیں نہ کہیں
آج سے دور بہت دور ہوں تجھ سے آصف
اہلِ دنیا تیرا تماشہ بنا دیں نہ کہیں
آصف میؤ
No comments:
Post a Comment