Sunday, 21 November 2021

میرے آنسو میری تقدیر سجا دیں نہ کہیں

 میرے آنسو میری تقدیر سجا دیں نہ کہیں

دعائیں میری تجھے مجھ سے ملا دیں نہ کہیں

رو بھی سکتا نہیں کھل کر تیری محبت میں

میرے آنسو تمہارا نام دکھا دیں نہ کہیں

میری توبہ جو محبت کروں میں دوبارہ

تمہارے طور ہی مجھ کو وہ دغا دیں نہ کہیں

محبت تھی نہیں اس کو تبھی تو ڈرتا ہوں

لوگ الزام محبت کا لگا دیں نہ کہیں

میرا قصۂ محبت ہے بہت شہرہ جہاں

یہ قصہ بچے میرے مجھ کو سنا دیں نہ کہیں

آج سے دور بہت دور ہوں تجھ سے آصف

اہلِ دنیا تیرا تماشہ بنا دیں نہ کہیں


آصف میؤ

No comments:

Post a Comment