Sunday, 21 November 2021

بھٹکنے میں وہاں بھی اک مزہ ہے

 بھٹکنے میں وہاں بھی اک مزا ہے

جہاں منزل مجھے اپنی پتا ہے

سوائے ہاؤ ہو اب کیا بچا ہے؟

صدا لگتی ہے جیسے بے صدا ہے

وہ بندے بھی تُلے ہیں خود روی پر

جو یہ تسلیم کرتے ہیں؛ خدا ہے

میں ارمانوں کی لاشیں ڈھو رہا ہوں

مِرا احساس مقتل ہو گیا ہے

مِرے چہرہ کی رونق پر نہ جاؤ

مِرے دل میں کہاں جھانکا گیا ہے

نہ سوتی ہیں مِری بستی میں راتیں

نہ میرے شہر میں دن جاگتا ہے

کسی کے پاس وہ کیا جانے دے گا

خود اپنے آپ سے جو فاصلہ ہے

مہکتی ہے زباں اس کے ہی دم سے

نہالِ دل میں جو اک گُل کِھلا ہے


نہال رضوی

No comments:

Post a Comment