Friday, 2 April 2021

چلو شاید کہ منزل کا نشاں ہے

 چلو شاید کہ منزل کا نشاں ہے

نہیں تو یہ مسافت رائیگاں ہے

نہ ہی تم میں سکت طوفاں سے لڑ لو

نہ اپنے پاس کوئی بادباں ہے

فقط ہم نام دینے سے ہیں قاصر

تعلق تو ہمارے درمیاں ہے

میں باسی ہوں کسی بنجر زمیں کا

مقابل میرے پیاسا آسماں ہے

نہیں‌ ہوتی اسیرِ وقت اشعر

محبت دائمی ہے، جاوداں‌ ہے


مرتضیٰ اشعر

No comments:

Post a Comment