Friday, 2 April 2021

خلوص و مہر و وفا کس کی احتیاج نہیں

 خلوص و مہر و وفا کس کی احتیاج نہیں

یہ اور بات زمانے کا یہ مزاج نہیں

دیا ہے درس یہ کربِ آگہی نے مجھے

شعورِ زیست غمِ زیست کا علاج نہیں

اگر ملی تو ملے گی دلوں کی بستی میں

وہ روشنی جو مِرے عہد کا خراج نہیں

جو وجہِ زیست تھا اک آئینہ محبت کا

صحیفۂ دلِ انساں میں اندراج نہیں

یہ بات کون خدایانِ سیم و زر کو بتائے

شعور بھیک نہیں، آگہی خراج نہیں

نہ کر وفاؤں کا تقاضا مِرے محبوب

رفاقتوں کا مِرے شہر میں رواج نہیں


عابد حشری

No comments:

Post a Comment