Friday, 2 April 2021

اچھے برے کبھی ہیں حالات آدمی کے

 اچھے، بُرے کبھی ہیں حالات آدمی کے

پیچھے لگے ہُوئے ہیں دن رات آدمی کے

رخصت ہُوئے تو جانا، سب کام تھے ادھورے

کیا کیا کریں ‌جہاں میں، دو ہاتھ آدمی کے

مٹی سے وہ اُٹھا ہے، مٹی میں جا ملے گا

اُڑتے پھریں گے اک دن، ذرّات آدمی کے

اک آگ حسرتوں کی، سوچوں کا اک سمندر

کیا کیا وبال یا رب! ہیں ساتھ آدمی کے؟

اس دورِ ارتقاء میں، منذر قدم قدم پر

پامال ہو رہے ہیں، جذبات آدمی کے


بشیر منذر

No comments:

Post a Comment