Friday, 2 April 2021

میں دن کو رات کے دریا میں جب اتار آیا

 میں دن کو رات کے دریا میں جب اتار آیا

مجھے زمین کی گردش پہ اعتبار آیا

میں کون کون سے حصے میں روشنی لکھوں

کہ اب تو سارا علاقہ پس غبار آیا

جو کر رہا تھا برابر نصیحتیں مجھ کو

وہ ایک داؤ میں ساری حیات ہار آیا

دیار عشق میں خیرات جب ملی مجھ کو

مِرے نصیب کی جھولی میں انتظار آیا

شبِ فراق کے لمحے تھے اتنے طُولانی

میں ایک رات میں صدیاں کئی گزار آیا

نکل سکا نہ دُکھوں کے حصار سے باہر

تمام زیست اسی خول میں گزار آیا

ہوا کے پاؤں تو شل ہو گئے تھے رستے میں

یہ کون پتوں میں سرگوشیاں اُبھار آیا


سورج نرائن

No comments:

Post a Comment