Friday, 2 April 2021

تنہا اپنی ذات لیے پھرتا ہوں میں

 تنہا اپنی ذات لیے پھرتا ہوں میں

خود کو اپنے ساتھ لیے پھرتا ہوں میں

لفظوں کا سیلاب اُنڈیلوں خاک یہاں

ننھی سی اک بات لیے پھرتا ہوں میں

بڑی بڑی دیواریں کیسے توڑوں گا

چھوٹے چھوٹے ہاتھ لیے پھرتا ہوں میں

ہری بھری بیلوں کا قصہ کیا لکھوں

سُوکھے سُوکھے پات لیے پھرتا ہوں میں

سُورج اپنے دل کی اُجڑی بستی میں

یادوں کی بارات لیے پھرتا ہوں میں


سورج نرائن

No comments:

Post a Comment