چراغ اس لیے بےکار ہونےوالا ہے
کوئی ستارہ نمودار ہونے والا ہے
قطار توڑ کے چُپ چاپ میں نکل آیا
مجھے خبر تھی کہ انکار ہونے والا ہے
مجھے یہ ڈر ہے کہیں منکشف نہ ہو جائے
جو حادثہ پسِ دیوار ہونے والا ہے
ہم اس لیے بھی نہیں کرتے دیکھ بھال اپنی
ہمارا کون طلب گار ہونے والا ہے
کوئی بھی فرض کفایہ ادا نہیں کرتا
تمام شہر گنہ گار ہونے والا ہے
شہزاد راؤ
No comments:
Post a Comment