Friday, 2 April 2021

چراغ اس لیے بیکار ہونے والا ہے

 چراغ اس لیے بےکار ہونےوالا ہے

کوئی ستارہ نمودار ہونے والا ہے

قطار توڑ کے چُپ چاپ میں نکل آیا

مجھے خبر تھی کہ انکار ہونے والا ہے

مجھے یہ ڈر ہے کہیں منکشف نہ ہو جائے

جو حادثہ پسِ دیوار ہونے والا ہے

ہم اس لیے بھی نہیں کرتے دیکھ بھال اپنی

ہمارا کون طلب گار ہونے والا ہے

کوئی بھی فرض کفایہ ادا نہیں کرتا

تمام شہر گنہ گار ہونے والا ہے


شہزاد راؤ

No comments:

Post a Comment