میں دور ہو کے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا
ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہیں ہوتا
بغیر اس کے ہو احساس زندگی کا سفر
یہ سوچتا تو ہوں پر حوصلہ نہیں ہوتا
وہ اس طرح سے مِری زندگی کا حصہ ہے
اس ایک حس کا بدل دوسرا نہیں ہوتا
کیا ہے گردشِ حالات نے مجھے مجبور
وگرنہ، ظرف چھلکتا، صدا نہیں ہوتا
یہ سب ہے سحر اسی نرگسی نگاہی کا
مجھے تھا فخر کبھی کہ نشہ نہیں ہوتا
نہ جمع کرتے جو لکڑی سیاستوں کے گروہ
دُھواں تو شہر سے ہرگز اُٹھا نہیں ہوتا
اظہر شمس
No comments:
Post a Comment