Tuesday, 19 October 2021

داؤ پہ اپنی ساری کرامات مت لگا

 داؤ پہ اپنی ساری کرامات مت لگا

دل دشت ہے تو دشت میں باغات مت لگا

بنتی نہیں ہے بات تو سب رنگ پھینک دے

تصویر مت بگاڑ، علامات مت لگا

ایسا نہ ہو کہ ملبہ مِرا تجھ پہ آ گرے

’دیوارِِ خستگی ہوں مجھے ہات مت لگا‘

سائے میں میرے بیٹھ مگر احتیاط سے

’دیوارِ خستگی ہوں مجھے ہات مت لگا‘

اب ٹوٹ کر جو ابر بھی برسیں تو فائدہ

سوکھے ہوئے درخت پہ یوں پات مت لگا

کیا اعتبار ہے تِرے آگے دلیل کو

اپنے بیاں کے ساتھ حکایات مت لگا

تو مہر و مہ سے سیکھ ذرا زندگی کے ڈھنگ

دنیا کے کام کاج میں دن رات مت لگا

اے راہبر تو جان لے،نیت پہ ہے مراد

مقصد کے ساتھ اپنے مفادات مت لگا

اے سعد کچھ ملال ضروری بھی ہے مگر

ہر وقت اس کی یاد میں برسات مت لگا

اے سعد اپنے کان کسی بات پر نہ دھر

اے سعد اپنے دل پہ کوئی بات مت لگا


سعد اللہ شاہ

No comments:

Post a Comment