داؤ پہ اپنی ساری کرامات مت لگا
دل دشت ہے تو دشت میں باغات مت لگا
بنتی نہیں ہے بات تو سب رنگ پھینک دے
تصویر مت بگاڑ، علامات مت لگا
ایسا نہ ہو کہ ملبہ مِرا تجھ پہ آ گرے
’دیوارِِ خستگی ہوں مجھے ہات مت لگا‘
سائے میں میرے بیٹھ مگر احتیاط سے
’دیوارِ خستگی ہوں مجھے ہات مت لگا‘
اب ٹوٹ کر جو ابر بھی برسیں تو فائدہ
سوکھے ہوئے درخت پہ یوں پات مت لگا
کیا اعتبار ہے تِرے آگے دلیل کو
اپنے بیاں کے ساتھ حکایات مت لگا
تو مہر و مہ سے سیکھ ذرا زندگی کے ڈھنگ
دنیا کے کام کاج میں دن رات مت لگا
اے راہبر تو جان لے،نیت پہ ہے مراد
مقصد کے ساتھ اپنے مفادات مت لگا
اے سعد کچھ ملال ضروری بھی ہے مگر
ہر وقت اس کی یاد میں برسات مت لگا
اے سعد اپنے کان کسی بات پر نہ دھر
اے سعد اپنے دل پہ کوئی بات مت لگا
سعد اللہ شاہ
No comments:
Post a Comment