Tuesday, 19 October 2021

اب سراب کے چشمے موجزن نہیں ہوتے

 اب سراب کے چشمے موجزن نہیں ہوتے

خشک ہو گئے شاید تشنگی کے سب سوتے

نیند میں بھی چادر کا اتنا پاس ہے تم کو

کچھ تو پاؤں پھیلاؤ اس طرح نہیں سوتے

کیسی رات آئی ہے نیند اڑ گئی سب کی

منزلیں تھپکتی ہیں، قافلے نہیں سوتے

خواب خود حقیقت ہیں آنکھ کھول کر دیکھو

کس نے کہہ دیا تم سے خواب سچ نہیں ہوتے

چاک ہو گیا دامن، ہاتھ ہو گئے زخمی

ایک داغ رسوائی اور کس طرح دھوتے

گریہ و تبسم تو ہیں نقاب چہروں کے

آئینے نہیں ہنستے، آئینے نہیں روتے


اعزاز افضل

No comments:

Post a Comment