Thursday, 3 February 2022

اب تو روٹھ جانے کا وقت ہی نہیں ملتا

 اب تو روٹھ جانے کا وقت ہی نہیں ملتا

تجھ کو آزمانے کا وقت ہی نہیں ملتا

سو چکے ہیں جو ارماں یاس کے شبستاں میں

اب انہیں جگانے کا وقت ہی نہیں ملتا

کس طرح بلائیں اب تجھ کو دید کی خاطر

راستہ سجانے کا وقت ہی نہیں ملتا

آرزو کی جو دنیا کھو گئی ہے راہوں میں

اس کو ڈھونڈ لانے کا وقت ہی نہیں ملتا

یوں ترس گئیں آنکھیں خود کو دیکھ لینے کو

آئینہ دکھانے کا وقت ہی نہیں ملتا

وقت کے تقاضے ہیں میرے خشک ہونٹوں کو

گیت گنگنانے کا وقت ہی نہیں ملتا

ان تمہاری یادوں کی روشنی غنیمت ہے

اب دِیے جلانے کا وقت ہی نہیں ملتا


نقاش عابدی

No comments:

Post a Comment