Thursday, 3 February 2022

نمو اک شگوفہ نیا کھلا ہے

 نمو


تمہیں خبر ہے

مرے سرہانے کے بیل بوٹوں میں

اک شگوفہ نیا کھلا ہے

تمہیں خبر ہے

کہ خشک سالی کے زرد موسم میں

پھول کھلنا دلیل ہے کہ

میں اپنے خوابوں کو رہن رکھ کر

تمام شب

اک اذیت سے کاٹتی ہوں

روش روش کو سنوارتی ہوں

مجھے یہ ڈر ہے

تمہاری یادوں سے میرا رشتہ نہ ٹوٹ جائے

کہیں یہ گلشن نہ سوکھ جائے


صفیہ چوہدری

صفیہ چودھری

No comments:

Post a Comment