Thursday, 3 February 2022

خام ہے میری محبت ورنہ یہ عالم نہ ہو

 خام ہے میری محبت ورنہ یہ عالم نہ ہو

وہ خلش بھی کیا خلش ہے دل میں جو پیہم نہ ہو

راز سر بستہ نہ کھل جائے ہنسی کے بعد بھی

ان کی محفل میں کوئی فطرت شناس غم نہ ہو

دے سکے اب تک نہ دستور وفا ترتیب تم

کیا رکے دیوار جب بنیاد مستحکم نہ ہو

جاتے جاتے بزم اہل غم پہ ہو یہ بھی کرم

آپ اس انداز سے اٹھیں کہ یہ برہم نہ ہو

کون کھوئے ظرف اپنا ورنہ اے پیر مغاں

میرے ساغر میں بھی مے ذوق طلب سے کم نہ ہو

جب بھی آئے زخم دل کو اور تازہ کر گئے

ایسے غمخواروں سے بہتر ہے کوئی ہمدم نہ ہو

اس گماں کو بھی نظر انداز کر سکتے نہیں

منتہائے ارتقا بربادئ عالم نہ ہو


نصیر کوٹی

No comments:

Post a Comment