جہاں پہ کرب ہوں ان مرحلوں کی بات کرتا ہوں
جو بے ترتیب ہوں ان سلسلوں کی بات کرتا ہوں
کہیں شعلہ، کہیں، شبنم، کہیں خوشبو، کہیں جگنو
پڑھو جب بھی اچھوتے زاویوں کی بات کرتا ہوں
کبھی روتا دکھائی دے رہا ہوں ہجر میں اس کے
کبھی محبوب سے میں قُربتوں کی بات کرتا ہوں
جو پیدا کر دئیے خود غرض انسانوں نے دنیا میں
میں فرطِ درد سے ان فاصلوں کی بات کرتا ہوں
میں ہوں فنکار ایسا، جو محبت کا پجاری ہے
میں انسانوں کے دکھ میں راحتوں کی بات کرتا ہوں
یہاں بھی ظلمتیں ہیں راز اس پہلے مکاں جیسی
جو بے مقصد رہیں، ان ہجرتوں کی بات کرتا ہوں
آصف راز
No comments:
Post a Comment