Thursday, 3 February 2022

خواب میرے دیکھتے ہو تولتے ہو بولتے ہو

 خواب میرے، دیکھتے ہو، تولتے ہو، بولتے ہو

کیا قیامت، کیا قیامت، چیختے ہو، بولتے ہو

سرخ وحشت، سبز آنکھیں، زہر نیلا، رات کالی

شور ماتم، راکھ ہر سو, گھولتے ہو، بولتے ہو

دن سویرا، اڑتے پنچھی، بہتا پانی، کھلتے غنچے

امن گانا، یہ ترانہ،۔ بیچتے ہو، بولتے ہو

گہرے سائے، سب پرائے، ایک آئے، ایک جائے

آنچ پر بھی، کانچ پر بھی، ناچتے ہو، بولتے ہو

میری گڑیا کو بھی توڑا، میرا جگنو بھی بُجھایا

تم عقیدوں کے سہارے، کھیلتے ہو، بولتے ہو

پیاری چڑیا اور کبوتر، آسماں اور فاختائیں

گہرے بادل، ہلکی بارش، بھیگتے ہو، بولتے ہو

آؤ مل کر ہاتھ پکڑیں، دل جلائیں اور ہنسائیں

تم مگر دکھ بانٹتے ہو، مارتے ہو، بولتے ہو


تمثیل حفصہ

No comments:

Post a Comment