یہ کردار بولے گا حسب میرا کیسا ہے
ہوں میں کس گھرانے سے نسب میرا کیسا ہے
شرافت، محبت ہے نشانی قبیلے کی
میں کہہ بھی نہیں سکتا غضب میرا کیسا ہے
رعونت کا عنصر دشمنوں پر ہی جچتا ہے
بخوبی میں واقف ہوں، عقب میرا کیسا ہے
زمانہ دلیلیں مانگتا ہے محبت کی
تِرے عشق میں مرنے کا ڈھب میرا کیسا ہے
یہاں ہر کوئی دوپل کا مہمان ہے عاطر
تمہیں کس طرح بولوں کہ رب میرا کیسا ہے
نیاز احمد عاطر
No comments:
Post a Comment