Friday, 2 July 2021

کتاب عشق کا استاد ہوں میں

 کتابِ عشق کا استاد ہوں میں

خِرد مندو! قلندر زاد ہوں میں

ہے مجھ پر بیمِ آزادی مسلط

کہ اک زن ہائے بے اولاد ہوں میں

کبھی زاہد کبھی مے بازِ بے سُدھ

عجب مجموعۂ اضداد ہوں میں

کسی کے عشق میں دُنیا گنوا کر

بہت خُورسند و خندہ، شاد ہوں میں

بجائے نیستی پر طنز کرنے

کرو آباد گر برباد ہوں میں


سرشار فقیرزادہ

No comments:

Post a Comment